ابھی سے

قسم کلام: متعلق فعل

معنی

١ - اتنی جلدی (بطور استفہام) "ابھی سے رشک! ابھی کے دن کے راتیں۔"      ( ١٨٩٩ء، ہیرے کی کنی، ٢٢ ) ٢ - ابتدا ہی میں، اس عمر میں، کم سنی میں۔  ابھی سے آپ کو برجیس ہے خضاب کی فکر خبر بھی ہے کہ گنہگار بال بال ہوا      ( ١٩١١ء، برجیس، بیاض شمیم (ق)، ٥٢ ) ٣ - قبل از وقت، پیشتر سے۔ "ابھی سے کہاں جاتے ہو، وہاں مشاعرہ شروع ہونے میں بہت دیر ہے۔"      ( ١٨٩٢ء، امیراللغات، ١٩:٢ ) ٤ - اسی وقت سے، آج سے۔  ہم مر کے بھی اٹھنے کے نہیں اس کی گلی سے سن رکھے یہ شور قیامت ابھی سے      ( ١٩٠٣ء، نظم نگاریں، ١٩٨ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے مرکب ہے۔ 'ابھی' کے ساتھ حرف جار 'سے' لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٨١٠ء کو کلیات میر میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اتنی جلدی (بطور استفہام) "ابھی سے رشک! ابھی کے دن کے راتیں۔"      ( ١٨٩٩ء، ہیرے کی کنی، ٢٢ ) ٣ - قبل از وقت، پیشتر سے۔ "ابھی سے کہاں جاتے ہو، وہاں مشاعرہ شروع ہونے میں بہت دیر ہے۔"      ( ١٨٩٢ء، امیراللغات، ١٩:٢ )